حدیث نمبر: 16383
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنْ أبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أبِي ثُمَامَةَ، قَالَ: لَقِيتُ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الْجُمُعَةَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ أَسْرَعْتُ نَحْوَهُ وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ ضَرَبَ يَدَيَّ وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟، فَقَالَ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ يُشَبِّكَ أَحَدُنَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الصَّلَاةِ، قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ تَوَضَّأْتَ وَأَنْتَ تُرِيدُ الْجُمُعَةَ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ
ترجمہ

ابو ثمامہ کہتے ہیں: میں جمعہ کے دن سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ملا، اس وقت میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا، جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف تیزی سے بڑھا، اور میں نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں، جب میں ان کے قریب پہنچا تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مار کر میری انگلیاں الگ کر دیں، تو میں نے عرض کیا: ابو محمد! یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہم میں سے کوئی نماز کی حالت میں اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے۔ میں نے عرض کیا: میں تو نماز میں نہیں ہوں۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے وضو نہیں کیا جبکہ تم جمعہ کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو تم نماز ہی کی حالت میں ہو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16383
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 152، حدیث 333