حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟ فَقَالَ: «مَا طَعَامُكُمْ؟» قَالَ: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ، قَالَ: «ذَاكَ الْجُوعُ» فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذَا الْحَالِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ قَالَ: قَدَحٌ عَشِيَّةً، وَقَدَحٌ غُدْوَةً
ترجمہ
سیدنا فجیع عامری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کھانا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم شام کو تھوڑا سا اور صبح کو تھوڑا سا پیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بھوک ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس حالت میں ان کے لیے مردار حلال کر دیا۔
ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھے اس کی تشریح یوں کی: شام کو ایک پیالہ اور صبح کو ایک پیالہ۔
ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھے اس کی تشریح یوں کی: شام کو ایک پیالہ اور صبح کو ایک پیالہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَطَاءٍ الْعَامِرِيُّ الْبَكَّائِيُّ كِتَابًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ، فَقَالَ لَنَا: اكْتُبُوهُ، وَلَمْ يُمْلِهِ عَلَيْنَا، زَعَمَ أَنَّ ابْنَ بِنْتِ الْفُجَيْعِ حَدَّثَهُ: هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفُجَيْعِ، «وَمَنْ تَبِعَهُ أَسْلَمَ، وَمَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ، وَأَطَاعَ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَأَعْطَى مِنَ الْمَغْنَمِ خُمُسَهُ، وَنَصَرَ نَبِيَّ اللهِ، وَأَشْهَدَ عَلَى إِسْلَامِهِ، وَفَارَقَ الْمُشْرِكِينَ، فَإِنَّهُ آمِنٌ بِأَمَانِ اللهِ وَمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
(راوی کہتے ہیں کہ ہمیں کہا گیا:) اسے لکھ لو، جبکہ یہ ہمیں زبانی نہیں پڑھایا گیا۔ فجیع کے نواسے کا بیان ہے کہ یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے فجیع کے نام تحریر تھی: جو ان کی پیروی کرے وہ مسلمان ہوا، اور جو نماز قائم کرے، زکوٰۃ دے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرے، اللہ کے نبی کی مدد کرے، اپنے اسلام پر گواہی دے، اور مشرکین سے علیحدگی اختیار کرے، تو وہ اللہ اور محمد ﷺ کی امان میں محفوظ ہے۔