کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ہشام بن حسان کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو سُفْيَانَ السَّرُوجِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، ثنا مَرْوَانُ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِجَابَةِ طَعَامِ الْفَاسِقِينَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فاسقوں کی دعوت (کھانے کی) قبول کرنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، وَمُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةٍ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا اللہ کی راہ میں صف میں کھڑا ہونا ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا: ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، ثُمَّ عَرَّسَ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَاسْتَيْقَظَ، وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَثُورُ إِلَى طُهْرِهِ دَهِشًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْتَحِلُوا» فَارْتَحَلْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلْنَا فَقَضَيْنَا مِنْ حَوَائِجِنَا وَتَوَضَّأْنَا، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقَامَ بِلَالٌ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَقْضِيهَا لِمِيقَاتِهَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ: «لَا يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ»
ترجمہ
… پھر نبی کریم ﷺ نے رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا، تو ہم میں سے ہر آدمی گھبراہٹ میں اپنی طہارت کی طرف اٹھنے لگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوچ کرو“، تو ہم چل پڑے یہاں تک کہ جب سورج بلند ہو گیا تو ہم نے پڑاؤ کیا اور اپنی حاجتیں پوری کیں اور وضو کیا، پھر آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور ہم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر بلال نے اقامت کہی اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا ہم اسے کل اس کے وقت پر دوبارہ پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارا رب تمہیں سود سے منع کرتا ہے، پھر وہ تم سے اسے قبول کر لے؟“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْرَمَ، ثنا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُبْغِضُ ثَلَاثَ قَبَائِلَ، بَنِي أُمَيَّةَ، وَبَنِي حَنِيفَةَ، وَثَقِيفٍ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اس حال میں کہ آپ ﷺ تین قبیلوں سے ناراض تھے: بنو امیہ، بنو حنیفہ، اور ثقیف۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامٌ يَعْنِي بْنَ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ بدشگونی لیتے ہیں، اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے انہی میں سے بنا دے۔“ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے پہل کر گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ هِشَامَ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔“