المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
هشام بن حسان عن الحسن عن عمران باب: ہشام بن حسان کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا: ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، ثُمَّ عَرَّسَ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَاسْتَيْقَظَ، وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَثُورُ إِلَى طُهْرِهِ دَهِشًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْتَحِلُوا» فَارْتَحَلْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلْنَا فَقَضَيْنَا مِنْ حَوَائِجِنَا وَتَوَضَّأْنَا، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقَامَ بِلَالٌ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَقْضِيهَا لِمِيقَاتِهَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ: «لَا يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ»… پھر نبی کریم ﷺ نے رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا، تو ہم میں سے ہر آدمی گھبراہٹ میں اپنی طہارت کی طرف اٹھنے لگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوچ کرو“، تو ہم چل پڑے یہاں تک کہ جب سورج بلند ہو گیا تو ہم نے پڑاؤ کیا اور اپنی حاجتیں پوری کیں اور وضو کیا، پھر آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور ہم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر بلال نے اقامت کہی اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا ہم اسے کل اس کے وقت پر دوبارہ پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارا رب تمہیں سود سے منع کرتا ہے، پھر وہ تم سے اسے قبول کر لے؟“