حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَا: ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى هَوَازِنَ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَقُتِلَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِثْلُ مَا قُتِلَ مِنْ قُرَيْشٍ يَوْمَ بَدْرٍ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفًّا مِنْ بَطْحَاءَ، فَرَمَاهُ فِي وُجُوهِنَا فَهُزِمْنَا
ترجمہ
سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ (والدِ عبداللہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بارہ ہزار (کے لشکر) کے ساتھ ہوازن کی طرف آئے، تو غزوہ حنین کے دن اہل طائف میں سے ہم میں سے اتنے ہی لوگ مارے گئے جتنے بدر کے دن قریش میں سے مارے گئے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھری اور اسے ہمارے چہروں کی طرف پھینکا تو ہم شکست کھا گئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُكَّةٌ مِنْ عَسَلٍ فَقَبِلَهَا وَقَالَ: احْمِ شِعْبِي، فَحَمَاهُ لَهُ وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا
ترجمہ
سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ (والدِ عبداللہ) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کو شہد کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا گیا، آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا، اور (ہدیہ دینے والے نے) کہا: میری گھاٹی کو (چراگاہ کے طور پر) محفوظ کر دیجیے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے لیے اسے محفوظ قرار دے دیا اور اس کے لیے ایک تحریر لکھ دی۔