حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجَفَاءُ وَالْقَسْوَةُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جفا، سختی اور دل کی سنگ دلی ان اونچی آواز میں پکارنے والے بدوؤں میں ہے جو اونٹوں کی دُموں کے پاس رہتے ہیں، ربیعہ اور مضر (کے قبائل) میں سے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ هاَهُنَا وإنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”ایمان یہاں ہے، اور سختی اور دل کی سنگ دلی ان بلند آواز چرواہوں میں ہے جہاں شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے، ربیعہ اور مضر میں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ: «الْإِيمَانُ هَاهُنَا الْإِيمَانُ هَاهُنَا، أَلَا إِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ، وَمُضَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”ایمان یہاں ہے، ایمان یہاں ہے، خبردار! سختی اور دل کی سنگ دلی ان بلند آواز چرواہوں میں ہے جہاں شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے، ربیعہ اور مضر میں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِيمَانُ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ، وَالجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ، وَمُضَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایمان یہاں ہے“، اور اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا، ”اور جفا اور دل کی سنگ دلی ان بلند آواز چرواہوں میں ہے جو اونٹوں کی دُموں کے پاس رہتے ہیں، جہاں شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے، ربیعہ اور مضر میں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَجَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ: «الْإِيمَانُ هَاهُنَا، الْقَسْوَةُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ، وَمُضَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”ایمان یہاں ہے، سختی اور دل کی سنگ دلی ان بلند آواز چرواہوں میں ہے جو اونٹوں کی دُموں کے پاس رہتے ہیں، جہاں شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے، ربیعہ اور مضر میں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثَنَا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
(یہ روایت اوپر والی حدیث ہی کی ایک اور سند ہے؛ اس کا متن محفوظ نہیں رہا۔)
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ وَإِلَى الصَّلَاةِ»
ترجمہ
(راوی کہتے ہیں) میں نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: جس دن رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی اسی دن سورج گرہن لگا، تو لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن آلود نہیں ہوتے، پس جب تم ایسا دیکھو تو اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف دوڑو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن آلود نہیں ہوتے، پس جب تم یہ دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَافَقَ ذَلِكَ مَوْتَ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ إِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا اور یہ ابراہیم کی وفات کے موافق ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن آلود نہیں ہوتے، لیکن جب تم یہ دیکھو تو نماز پڑھو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُنَاسٌ: إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو کچھ لوگوں نے کہا: سورج کو صرف ابراہیم علیہ السلام کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن آلود نہیں ہوتے، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم یہ دیکھو تو نماز پڑھو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَقُومُوا إِلَى الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن آلود نہیں ہوتے، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم یہ دیکھو تو نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ التُّرْكِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُزَاعِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرُّؤَاسِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالُوا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَرَاءُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ، فَقَالَ: «مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اس کے مالکوں کو کیا نقصان ہوتا اگر وہ اس کی کھال سے فائدہ اٹھا لیتے۔“