کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا عمرو بکالی رضی اللہ عنہ، ان کی صحابیت میں اختلاف ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الدَّبَّاسُ، ثَنَا مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْعَتَكِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ عَمْرٍو الْبِكَالِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالْجِهَادِ، فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْكُمْ سَبَّهُمْ وَحَلَّ لَكُمُ الصَّلَاةَ خَلْفَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا عمرو بکالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب تم پر ایسے حکمران ہوں جو تمہیں نماز، زکوٰۃ اور جہاد کا حکم دیں تو اللہ نے تم پر ان کو برا بھلا کہنا حرام کر دیا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا تمہارے لیے حلال کر دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ وَاقِدٍ الْعَبْسِيُّ، ثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ أَلْتَمِسُ الْفَرِيضَةَ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ قَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَمْرٌو الْبِكَالِيُّ أُصِيبَتْ يَدُهُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ يَوْمَ أُجْلِيَتِ الرُّومُ عَنِ الشَّامِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ حَلَّتْ لَكُمْ الصَّلَاةُ خَلْفَهُمْ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ سَبُّهُمْ»
ترجمہ
…میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ عمرو بکالی ہیں، جن کا ہاتھ یرموک کے دن، جس دن رومیوں کو شام سے نکال دیا گیا تھا، زخمی ہوا تھا۔ میں نے انہیں یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم پر ایسے حکمران ہوں جو تمہیں نماز، زکوٰۃ اور اللہ کی راہ میں جہاد کا حکم دیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنا تمہارے لیے حلال ہے اور ان کو برا بھلا کہنا تم پر حرام ہے۔“