کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ فِي نَخْلَةٍ، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ، فَإِنْ أَنْتَ أَخْبَرْتَنِي بِهَا آمَنْتُ بِكَ» . الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ایک کھجور کے درخت پر (کام میں مصروف) تھے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”میں آپ سے کچھ ایسی باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا، اگر آپ نے مجھے ان کا جواب دے دیا تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔“ (آگے راوی نے پوری حدیث بیان کی)۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ: «سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدِّثْنِي عَنْ شَبَهِ الرَّجُلِ أُمَّهُ، وَإِنَّمَا النُّطْفَةُ مِنَ الرَّجُلِ، فَقَالَ: «نُطْفَةُ الرَّجُلِ بَيْضَاءُ غَلِيظَةٌ، وَنُطْفَةُ الْمَرْأَةِ حَمْرَاءُ رَقِيقَةٌ، فَأَيُّهُمَا غَلَبَ صَاحِبَتَهَا كَانَ الشَّبَهُ لَهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَكَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا؟، قَالَ: «زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، قَالَ: «نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ فَتَسُوقُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ» ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں مسلمان ہو چکا ہوں اور کچھ باتیں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہو پوچھو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ بچہ اپنی ماں سے مشابہت کیوں رکھتا ہے حالانکہ نطفہ تو مرد کا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مرد کا نطفہ سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا نطفہ سرخ اور پتلا، پس دونوں میں سے جو نطفہ غالب آ جائے بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جنتی لوگ جنت میں داخل ہو کر کیا کھائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آگ جو مشرق سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے حشر کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔“ (یہ سن کر) سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں۔