کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: علی بن رباح کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُسْلِمُ؟» ، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، قَالُوا: فَمَنِ الْمُؤْمِنُ؟ قَالَ: «مَنْ أَمِنَهُ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ» ، قَالُوا: فَمَنِ الْمُهَاجِرُ؟، قَالَ: «مَنْ هَجَرَ السُّوءَ فَاجْتَنَبَهُ» ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: أَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ: مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، وَسَائِرُ النَّاسِ يَقُولُونَ مُوسَى بْنُ عُلِيٍّ، وَقَدْ حَرَّجَ عَلَى مَنْ سَمَّاهُ عُلَيًّا.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو مسلمان کون ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: مومن کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے مومن اپنی جانوں اور مالوں پر مامون ہوں۔“ صحابہ نے عرض کیا: مہاجر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو برائی کو چھوڑ کر اس سے دور رہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل مصر کہتے ہیں: موسیٰ بن علی بن رباح، جبکہ باقی لوگ کہتے ہیں: موسیٰ بن عُلَیّ، اور جو انہیں عُلَیّ کہے اس پر انہوں نے سختی کی ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل مصر کہتے ہیں: موسیٰ بن علی بن رباح، جبکہ باقی لوگ کہتے ہیں: موسیٰ بن عُلَیّ، اور جو انہیں عُلَیّ کہے اس پر انہوں نے سختی کی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: ثنا أصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: ثنا الْكَيْسُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُسْلِمُ؟» ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ صَالِحٍ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو مسلمان کون ہے؟“ پھر راوی نے ابن صالح کی حدیث کی طرح پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالَ: ثنا رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ: «إِنَّمَا الْحَسَدُ فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْآنَ، فَقَامَ بِهِ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَوَصَلَ فِيهِ أَقَارِبَهُ وَرَحِمَهُ، وَعَمِلَ بِكَلِمَةِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے: ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن عطا کیا اور وہ اس پر عمل پیرا رہا، اس کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام جانا، اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا تو اس نے اس کے ذریعے اپنے رشتہ داروں اور قرابت داروں سے صلہ رحمی کی اور اللہ کے حکم پر عمل کیا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالَ: ثنا رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟» ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت والوں کی خبر نہ دوں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کمزور اور مغلوب لوگ۔“