کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابان بن عثمان کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَني مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي عُمَرُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَعَائِشَةُ وَرَاءَهُ إِذِ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ , ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَدَخَلَ , ثُمَّ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَدَخَلَ , ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَدَّثُ كَاشِفًا عَنْ رُكْبَتِهِ فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَى رُكْبَتِهِ حِينَ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ اسْتَأْخِرِي: فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً , ثُمَّ خَرَجُوا , فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا نَبِيَّ اللهِ , دَخَلَ أَبِي وَأَصْحَابُهُ فَلَمْ تُصْلِحْ ثَوْبَكَ عَنْ رُكْبَتِكَ، وَلَمْ تُؤَخِّرْنِي عَنْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ، وَالَّذِي نَفْسُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَسْتَحْيِي مِنْ عُثْمَانَ كَمَا تَسْتَحْيِي مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ، وَلَوْ دَخَلَ وَأَنْتِ قَرِيبٌ مِنِّي لَمْ يَتَحَدَّثْ، وَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى تخْرُجَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک بار رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پیچھے تھیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ اندر آ گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ اندر آ گئے، پھر سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اجازت لے کر اندر آئے، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی، اور رسول اللہ ﷺ اس وقت گفتگو فرما رہے تھے جبکہ آپ ﷺ کا گھٹنا کھلا ہوا تھا، تو جب عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اپنا کپڑا اپنے گھٹنے پر پھیلا لیا اور اپنی زوجہ سے فرمایا: پیچھے ہو جاؤ۔ پھر وہ سب کچھ دیر گفتگو کرتے رہے، پھر چلے گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا نبی اللہ! میرے والد اور ان کے ساتھی اندر آئے تو آپ ﷺ نے اپنا کپڑا اپنے گھٹنے سے درست نہ کیا، اور نہ مجھے اپنے سے دور کیا؟ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں رسول اللہ ﷺ کی جان ہے، فرشتے عثمان سے ایسے ہی حیا کرتے ہیں جیسے وہ اللہ اور اس کے رسول سے حیا کرتے ہیں، اور اگر وہ اس وقت آتے جب تم میرے قریب ہوتیں تو نہ گفتگو کرتے اور نہ اپنا سر اٹھاتے یہاں تک کہ تم چلی جاتیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ فِي حَائِطٍ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهَ وَبَشِّرْهَ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبِالشَّهَادَةِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبِالشَّهَادَةِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک باغ میں تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو اور اسے جنت اور شہادت کی خوشخبری دے دو۔“ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو اور اسے جنت اور شہادت کی خوشخبری دے دو۔“