کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: طارق بن شہاب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا سَهْلٌ أَبُو عَتَّابٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَرِيضًا، وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى عُودٍ فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْعُودِ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَطَرَحَ الْعُودَ وَأَخَذَ وِسَادَةً فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهَا عَنْكَ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ، وَإِلَّا فَأَوْمِئْ إِيمَاءً، وَاجْعَلْ سُجُودَكَ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِكِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے ایک بیمار صحابی کی عیادت کے لیے گئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے تو وہ ایک لکڑی پر (سہارا لے کر) نماز پڑھ رہے تھے، اور اپنی پیشانی اس لکڑی پر رکھتے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا تو انہوں نے لکڑی ہٹا دی اور ایک تکیہ پکڑ لیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بھی چھوڑ دو، اگر تم زمین پر سجدہ کر سکتے ہو تو کرو، ورنہ اشارے سے سجدہ کرو، اور اپنے سجدے کو اپنے رکوع سے زیادہ جھکا کر کرو۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ: لَقِيَ ابْنَ عُمَرَ حَاجًّا، أَوْ مُعْتَمِرًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا أَهْلُ أَرْضٍ نَسْتَأْجِرُ الْأَرْضَ الْبَيْضَاءَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ. قَالَ: «إِنَّا نَكْرَهُ ذَلِكَ هَذِهِ الْمُحَاقَلَةَ» ، قُلْتُ: فَنُعْطِي الْأَرْضَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، قَالَ: «لَا بَأْسَ بِذَلِكَ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ»
ترجمہ
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج یا عمرہ کی حالت میں ملے، تو میں ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم ایک ایسی زمین کے لوگ ہیں جو خالی (بغیر کاشت کی) زمین دینار اور درہم کے عوض کرائے پر لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم اسے ناپسند کرتے ہیں، یہ محاقلہ ہے۔“ میں نے کہا: تو ہم زمین تہائی یا چوتھائی (پیداوار) کے عوض دیں؟ انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، ہم ایسا کیا کرتے تھے۔“