المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طارق بن شهاب، عن ابن عمر باب: طارق بن شہاب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13027
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ: لَقِيَ ابْنَ عُمَرَ حَاجًّا، أَوْ مُعْتَمِرًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا أَهْلُ أَرْضٍ نَسْتَأْجِرُ الْأَرْضَ الْبَيْضَاءَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ. قَالَ: «إِنَّا نَكْرَهُ ذَلِكَ هَذِهِ الْمُحَاقَلَةَ» ، قُلْتُ: فَنُعْطِي الْأَرْضَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، قَالَ: «لَا بَأْسَ بِذَلِكَ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ»ترجمہ
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج یا عمرہ کی حالت میں ملے، تو میں ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم ایک ایسی زمین کے لوگ ہیں جو بنجر زمین دینار اور درہم کے عوض کرائے پر دیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم اسے ناپسند کرتے ہیں، یہ محاقلہ ہے۔“ میں نے کہا: تو ہم زمین تہائی یا چوتھائی (پیداوار) کے عوض دیں؟ انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، ہم ایسا کیا کرتے تھے۔“