کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سعید بن ابی حسن کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: إِنِّي إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدَيَّ، وَأَنَا أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسَ: لَا أَجِدُ لَكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللهَ يُعَذِّبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا» قَالَ: فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً، وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: «وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رَوْحٌ» ،
ترجمہ
…اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہارے لیے اس کے سوا کچھ نہیں پاتا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص کوئی تصویر بنائے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس وقت تک عذاب دیتا رہے گا جب تک وہ اس میں روح نہ پھونک دے، حالانکہ وہ کبھی اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“ راوی کہتے ہیں: اس پر وہ شخص سخت پریشان ہو گیا اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! اگر تو بہرحال (تصویر) بنانے پر ہی اصرار کرتا ہے تو درختوں اور ہر اس چیز کی تصویر بنا جس میں روح نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی کریم ﷺ کے حوالے سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔