حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنٍ تَقْرَأُ؟ قُلْتُ: الْآخِرَةُ قَالَ: " فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ عَامٍ فِي رَمَضَانَ. قَالَ: فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ "، فَشَهِدَ عَبْدُ اللهِ مَا نُسِخَ مِنْهُ، وَمَا بُدِّلَ، فَقِرَاءَةُ عَبْدِ اللهِ الْآخِرَةُ
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: تم دونوں قراءتوں میں سے کون سی پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: آخری والی۔ انہوں نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام ہر سال رمضان میں نبی کریم ﷺ پر قرآن دہرایا کرتے تھے، اور جس سال نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی اس سال انہوں نے دو بار قرآن دہرایا۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے وہ سب کچھ دیکھا جو منسوخ ہوا اور جو بدلا گیا، تو عبداللہ کی قراءت آخری قراءت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْمَكِّيِّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: ٩] قَالَ: " الْقَابُ: الْقَيْدُ، وَالْقَوْسَيْنِ: الذِّرَاعَيْنِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”پس وہ دو کمانوں کے فاصلے پر تھا یا اس سے بھی قریب“ [النجم: 9] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”قاب سے مراد پیمانہ (فاصلہ) ہے، اور قوسین سے مراد دونوں بازو ہیں۔“