المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زر عن ابن عباس باب: زر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12549
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنٍ تَقْرَأُ؟ قُلْتُ: الْآخِرَةُ قَالَ: " فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ عَامٍ فِي رَمَضَانَ. قَالَ: فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ "، فَشَهِدَ عَبْدُ اللهِ مَا نُسِخَ مِنْهُ، وَمَا بُدِّلَ، فَقِرَاءَةُ عَبْدِ اللهِ الْآخِرَةُترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: تم دونوں قراءتوں میں سے کون سی پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: آخری والی۔ انہوں نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام ہر سال رمضان میں نبی کریم ﷺ پر قرآن دہرایا کرتے تھے، اور جس سال نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی اس سال انہوں نے دو بار قرآن دہرایا۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے وہ سب کچھ دیکھا جو منسوخ ہوا اور جو بدلا گیا، تو عبداللہ کی قراءت آخری قراءت ہے۔