کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: حصین کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ، عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ: سَأَلَ سَائِلٌ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا سَائِلُ قَالَ: لَبَّيْكَ قَالَ: تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وتُصَلِّي الْخَمْسَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَتَصُومُ رَمَضَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: حَقٌّ عَلَيْنَا أَنْ نَصِلَكَ، فَنَزَعَ ثَوْبًا عَلَيْهِ فَكَسَاهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا كَانَ فِي حِفْظِ اللهِ مَا بَقِيَتْ عَلَيْهِ مِنْهُ رُقْعَةٌ» ،
ترجمہ
حصین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک سائل نے سوال کیا جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز میں تھے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: اے سائل! اس نے کہا: لبیک۔ انہوں نے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پوچھا: اور پانچوں نمازیں پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پوچھا: اور رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: تو ہم پر حق ہے کہ ہم تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں، چنانچہ انہوں نے اپنے اوپر کا ایک کپڑا اتار کر اسے پہنا دیا، پھر اس موقع پر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو مسلمان کسی مسلمان کو کپڑا پہنائے وہ اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے جب تک اس کپڑے کا کوئی ٹکڑا بھی اس پر باقی رہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12538
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 97، حدیث 12591
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12539
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 97، حدیث 12592