کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا طفیل بن سخبرہ دوسی رضی اللہ عنہ، اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں شریک بھائی
❮
❯
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ، أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، قَالَ: رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي مَرَرْتُ بِرَهْطٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالُوا: نَحْنُ الْيَهُودُ، فَقُلْتُ: إِنَّكُمْ لَأَنْتُمِ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ عُزَيْرٌ ابْنُ اللهِ؟ قَالُوا: وَأَنْتُمِ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِرَهْطٍ مِنَ النَّصَارَى، فَقُلْتُ: إِنَّكُمْ لَأَنْتُمِ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ، فَقَالُوا: وَأَنْتُمِ الْقَوْمُ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَخْبرْتُ بِهَا نَاسًا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: «هَلْ أَخْبَرْتَ بِهَا أَحَدًا؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ قَامَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ طُفَيْلًا رَأَى رُؤْيَا أَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْكُمْ، وَإِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَقُولُونَ كَلِمَةً كَانَ يَمْنَعُنِي الْحَيَاءُ مِنْكُمْ أَنْ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ، فَلَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ»
ترجمہ
سیدنا طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں کی طرف سے بھائی تھے، کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہودی ہیں۔ میں نے کہا: تم اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ انہوں نے کہا: اور تم بھی اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ ’جو اللہ چاہے اور محمد چاہے‘۔ پھر میں عیسائیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا، تو میں نے کہا: تم اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ انہوں نے کہا: اور تم بھی اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ ’جو اللہ چاہے اور محمد چاہے‘۔ جب میں صبح کو اٹھا تو میں نے یہ بات کچھ لوگوں کو بتائی، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر انہیں بھی بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ کسی کو بتائی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ جب آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”طفیل نے ایک خواب دیکھا ہے جو انہوں نے تم میں سے جسے بتانا تھا بتا دیا، اور تم یہ کلمہ کہا کرتے تھے جسے روکنے سے مجھے تم سے حیا مانع تھی، پس اب یہ مت کہو: ’جو اللہ چاہے اور محمد چاہے‘۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8183
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 324، حدیث 8214
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَخٍ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا، مِنْ بَنِي دَوْسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي لَقِيتُ قَوْمًا مِنَ الْيَهُودِ، فَسَأَلْتُهُمْ وَسَأَلُونِي فَقُلْتُ: إِنَّكُمْ لَقَوْمٌ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ عُزَيْرٌ ابْنُ اللهِ. فَقَالُوا: وَأَنْتُمْ إِنَّكُمْ لِقَوْمٌ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ لَقِيتُ أَعْدَادَهُمْ مِنَ النَّصَارَى، فَسَأَلْتُهُمْ وَسَأَلُونِي، فَقُلْتُ: إِنَّكُمْ لِقَوْمٌ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ، فَقَالُوا: وَأَنْتُمْ إِنَّكُمْ لَقَوْمٌ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، فَحَدَّثْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ حَدَّثْتَ بِهَا أَحَدًا قَبْلِي؟» قُلْتُ: نَعَمْ، يَا نَبِيَّ اللهِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " إِنَّ أَخَاكُمْ رَأَى رُؤْيَا قَدْ حَدَّثَكُمْ بِمَا رَأَى، إِنَّمَا كَانَ يَمْنَعُنِي أَنْ أَنْهَاكُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَيَاءِ، فَإِذَا قُلْتُمْ فَقُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں کی طرف کے بھائی، جو بنو دوس میں سے تھے، کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں یہودیوں کی ایک جماعت سے ملا، میں نے ان سے پوچھا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا، تو میں نے کہا: تم اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ انہوں نے کہا: اور تم بھی، تم اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ ’جو اللہ چاہے اور محمد چاہے‘۔ پھر میں انہی جتنی تعداد میں عیسائیوں سے ملا، میں نے ان سے پوچھا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا، تو میں نے کہا: تم اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ انہوں نے کہا: اور تم بھی، تم اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ ’جو اللہ چاہے اور محمد چاہے‘۔ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ مجھ سے پہلے کسی کو بتائی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے نبی۔ تو نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہارے بھائی نے ایک خواب دیکھا ہے جو انہوں نے تمہیں بتا دیا، مجھے تمہیں اس سے روکنے سے صرف حیا مانع تھی، پس جب تم کہو تو یوں کہو: ’جو اللہ اکیلا چاہے‘۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8184
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 325، حدیث 8215