المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طفيل بن سخبرة الدوسي، أخو عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم لأمها باب: سیدنا طفیل بن سخبرہ دوسی رضی اللہ عنہ، اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں شریک بھائی
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ، أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، قَالَ: رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي مَرَرْتُ بِرَهْطٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالُوا: نَحْنُ الْيَهُودُ، فَقُلْتُ: إِنَّكُمْ لَأَنْتُمِ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ عُزَيْرٌ ابْنُ اللهِ؟ قَالُوا: وَأَنْتُمِ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِرَهْطٍ مِنَ النَّصَارَى، فَقُلْتُ: إِنَّكُمْ لَأَنْتُمِ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ، فَقَالُوا: وَأَنْتُمِ الْقَوْمُ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَخْبرْتُ بِهَا نَاسًا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: «هَلْ أَخْبَرْتَ بِهَا أَحَدًا؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ قَامَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ طُفَيْلًا رَأَى رُؤْيَا أَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْكُمْ، وَإِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَقُولُونَ كَلِمَةً كَانَ يَمْنَعُنِي الْحَيَاءُ مِنْكُمْ أَنْ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ، فَلَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ»سیدنا طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں کی طرف سے بھائی تھے، کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہودی ہیں۔ میں نے کہا: تم اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ انہوں نے کہا: اور تم بھی اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ ’جو اللہ چاہے اور محمد چاہے‘۔ پھر میں عیسائیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا، تو میں نے کہا: تم اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ انہوں نے کہا: اور تم بھی اچھی قوم ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ ’جو اللہ چاہے اور محمد چاہے‘۔ جب میں صبح کو اٹھا تو میں نے یہ بات کچھ لوگوں کو بتائی، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر انہیں بھی بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ کسی کو بتائی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ جب آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”طفیل نے ایک خواب دیکھا ہے جو انہوں نے تم میں سے جسے بتانا تھا بتا دیا، اور تم یہ کلمہ کہا کرتے تھے جسے روکنے سے مجھے تم سے حیا مانع تھی، پس اب یہ مت کہو: ’جو اللہ چاہے اور محمد چاہے‘۔“