حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الثَّوْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ لَقِيطٍ أَبِي الْمَشَّاءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسٌ، فَوَهَبَهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَكَانَ يَسْمَعُ صَهِيلَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ فَقْدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ فَرَسُكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْصَيْتُهُ. فَقَالَ: «الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ، وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ نَوَاصِيهَا دِفَاؤُهَا، وَأَذْنَابُهَا مَذَابُّهَا»
ترجمہ
…سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک گھوڑا تھا، جو آپ ﷺ نے ایک انصاری آدمی کو ہبہ کر دیا، آپ ﷺ اس کی ہنہناہٹ سنتے تھے، پھر ایک دن آپ ﷺ نے اسے (اس کی آواز) نہ پایا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہارے گھوڑے کا کیا ہوا؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میں نے اسے خصی کر دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر بندھی ہے، اور غنیمت قیامت تک کے لیے ان کی پیشانیوں سے وابستہ ہے، ان کی پیشانیاں ان کی گرمی (طاقت) ہیں اور ان کی دُمیں ان کے مکھیاں اڑانے کا ذریعہ ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا لَقِيطٌ أَبُو الْمَشَّاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، فِي حَدِيثٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، وَيُمَضْمِضُ فَاهُ، وَيَتَوَضَّأُ كَمَا أُمِرَ إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ مَا أَصَابَ يَوْمَئِذٍ مَا نَطَقَ بِهِ فَمُهُ، وَمَا مَسَّ يَدُهُ، وَمَا مَشَى إِلَيْهِ حَتَّى إِنَّ الْخَطَايَا تَحَادَرُ مِنْ أَطْرَافِهِ، ثُمَّ هُوَ إِذَا مَشَى إِلَى الْمَسْجِدِ، فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً، وَأُخْرَى تُمْحِي سَيِّئَةً»
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان وضو کرے، اپنے ہاتھ دھوئے، کلی کرے، اور جیسے حکم دیا گیا ہے ویسے ہی وضو کرے تو اللہ اس دن اس کی وہ خطائیں معاف کر دیتا ہے جو اس کی زبان سے نکلیں، اس کے ہاتھ نے چھوئیں اور جہاں تک وہ چل کر گیا، یہاں تک کہ خطائیں اس کے اعضاء کے کناروں سے جھڑ جاتی ہیں، پھر جب وہ مسجد کی طرف چلتا ہے تو ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر برائی مٹا دی جاتی ہے۔“