المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
لقيط أبو المشاء، عن أبي أمامة باب: لقیط ابومشاء کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 7963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الثَّوْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ لَقِيطٍ أَبِي الْمَشَّاءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسٌ، فَوَهَبَهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَكَانَ يَسْمَعُ صَهِيلَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ فَقْدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ فَرَسُكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْصَيْتُهُ. فَقَالَ: «الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ، وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ نَوَاصِيهَا دِفَاؤُهَا، وَأَذْنَابُهَا مَذَابُّهَا»ترجمہ
…سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک گھوڑا تھا، جو آپ ﷺ نے ایک انصاری آدمی کو ہبہ کر دیا، آپ ﷺ اس کی ہنہناہٹ سنتے تھے، پھر ایک دن آپ ﷺ نے اسے (اس کی آواز) نہ پایا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہارے گھوڑے کا کیا ہوا؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میں نے اسے خصی کر دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر بندھی ہے، اور غنیمت قیامت تک کے لیے ان کی پیشانیوں سے وابستہ ہے، ان کی پیشانیاں ان کی گرمی (طاقت) ہیں اور ان کی دُمیں ان کے مکھیاں اڑانے کا ذریعہ ہیں۔“