حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُدْرِكٍ الْقِصْرِيُّ، بِقَصْرِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں امانت داری نہ ہو اس کا ایمان نہیں، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُدْرِكٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: نُودِيَ فِينَا عَامَ خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ، وَالْحُمُرُ الْأَهْلِيَّةُ حَرَامٌ»
«وَأَنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ»
«وَأَنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: خیبر کے سال ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا: ”ہر کچلی والا درندہ حرام ہے، اور پالتو گدھے حرام ہیں“
”اور بیشک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں۔“
”اور بیشک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُدْرِكٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عُتْبَةَ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَالَهُ اللَّيْلُ أَنْ يُكَابِدَهُ، أَوْ بَخِلَ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ، أَوْ جَبُنَ عَنِ الْعَدُوِّ أَنْ يُقَاتِلَهُ، فَلْيُكْثِرْ مِنْ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، فَإِنَّهَا أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ جَبَلِ ذَهَبٍ يُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے رات کی عبادت میں محنت کرنا گراں گزرے، یا مال خرچ کرنے میں بخل آئے، یا دشمن سے لڑنے میں بزدلی محسوس ہو، تو اسے چاہیے کہ کثرت سے ”سبحان اللہ وبحمدہ“ کہے، کیونکہ یہ اللہ کو اس سونے کے پہاڑ سے زیادہ محبوب ہے جو اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے۔“