کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عمرو بن عبداللہ حضرمی کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا سَلَامَةُ بْنُ نَاهِضٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَانِئٍ، ثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَقْبَلَ بِي الشَّامَ، وَوَلَّى ظَهْرِيَ لِلْيَمَنِ، وَقَالَ لِي: يَا مُحَمَّدُ، جَعَلْتُ مَا تُجَاهَكَ غَنِيمَةً وَرِزْقًا، وَمَا خَلْفَ ظَهْرِكَ مَدَدًا، وَلَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشِّرْكُ وَأَهْلُهُ، حَتَّى تَسِيرَ الْمَرْأَتَانِ لَا تَخْشَيَانِ جَوْرًا "
ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَبْلُغَ هَذَا الدِّينُ مَبْلَغَ هَذَا النَّجْمِ»
ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَبْلُغَ هَذَا الدِّينُ مَبْلَغَ هَذَا النَّجْمِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل نے مجھے شام کی طرف رخ کروایا اور میری پیٹھ یمن کی طرف کر دی، اور مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں نے تمہارے سامنے کی چیز کو غنیمت اور رزق بنا دیا ہے، اور تمہارے پیچھے کی چیز کو کمک بنا دیا ہے، اور اسلام بڑھتا رہے گا اور شرک اور اہلِ شرک گھٹتے رہیں گے، یہاں تک کہ دو عورتیں (تنہا) سفر کریں گی اور کسی ظلم سے نہیں ڈریں گی۔“
پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دن رات نہیں گزریں گے یہاں تک کہ یہ دین اس ستارے (کی روشنی) تک پہنچ جائے گا۔“
پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دن رات نہیں گزریں گے یہاں تک کہ یہ دین اس ستارے (کی روشنی) تک پہنچ جائے گا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ، ثنا أَبُو عُمَيْرٍعِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ النَّحَّاسُ، ثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ يَغْزُوهُمْ، قَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ نَاوَأَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمَرُ اللهِ، وَهُمْ كَذَلِكَ» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَ: «بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ حق پر غالب رہے گا، جو ان سے لڑے گا اس پر غالب رہے گا، زبردست ہو گا، جو ان کی مخالفت کرے گا وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے، اور وہ اسی حالت میں ہوں گے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کہاں ہوں گے؟ فرمایا: ”بیت المقدس میں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَدِيثِ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيِّ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَوْمًا، وَكَانَ أَكْثَرُ خُطْبَتِهِ ذِكْرَ الدَّجَّالِ، يُحَذِّرْنَاهُ يُحَدِّثُنَا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَنَا يَوْمَئِذٍ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ، وَهُوَ خَارِجٌ فِيكُمْ لَا مَحَالَةَ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَأَنَا حَجِيجُ كُلِّ مُسْلِمٍ، وَإِنْ يَخْرُجْ فِيكُمْ بَعْدِي فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ. وَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَالشَّامِ عَاثَ يَمِينًا، وَعَاثَ شِمَالًا: يَا عِبَادَ اللهِ اثْبُتُوا، فَإِنَّهُ يَبْدَأُ يَقُولُ: أَنَا نَبِيٌّ، وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَتْفُلْ فِي وَجْهِهِ، وَلْيَقْرَأْ بِقَوَارِعِ سُورَةِ أَصْحَابِ الْكَهْفِ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فَيَقْتُلُهَا، ثُمَّ يُحْيِيهَا، وَإِنَّهُ لَا يَعْدُو ذَلِكَ، وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ مِنْ غَيْرِهَا، وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنَّ مَعَهُ جَنَّةً وَنَارًا، وَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ، فَمَنِ ابْتُلِيَ بِنَارِهِ فَلْيُغْمِضْ عَيْنَيْهِ، وَلْيَسْتَغِثْ بِاللهِ يَكُونُ بَرْدًا وَسَلَامًا، كَمَا كَانَتِ النَّارُ بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَإِنَّ أَيَّامَهُ أَرْبَعُونَ يَوْمًا: يَوْمًا كَسَنَةٍ، وَيَوْمًا كَشَهْرٍ وَيَوْمًا كَجُمُعَةٍ، وَيَوْمًا كالْأيامِ فِي تِلْكَ الْأَيَّامِ، وَآخِرُ أَيَّامِهِ كَالسَّرَابِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ عِنْدَ بَابِ الْمَدِينَةِ فَيَمْشِي قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ بَابَهَا الْآخَرَ ". قَالَ: فَكَيْفَ نُصَلِّي يَا رَسُولَ اللهِ، فِي تِلْكَ الْأَيَّامِ الْقِصَارِ؟ قَالَ: «تُقَدِّرُونَ فِيهَا كَمَا تُقَدِّرُونَ الْأَيَّامَ الطِّوَالَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں خطبہ دیا، اور آپ ﷺ کے خطبے کا بیشتر حصہ دجال کے ذکر پر مشتمل تھا، آپ ﷺ ہمیں اس سے ڈراتے اور اس کے بارے میں بتاتے رہے یہاں تک کہ اپنے خطبے سے فارغ ہوئے، تو اس دن آپ ﷺ نے جو باتیں ہم سے فرمائیں ان میں یہ بھی تھا: ”بے شک اللہ عزوجل نے جب بھی کوئی نبی بھیجا تو اس نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا، اور میں آخری نبی ہوں، اور تم آخری امتیں ہو، اور وہ ضرور بالضرور تم میں ظاہر ہو گا، اگر وہ اس حال میں ظاہر ہو کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو میں ہر مسلمان کی طرف سے دلیل دینے والا ہوں گا، اور اگر وہ میرے بعد تم میں ظاہر ہو تو ہر شخص خود اپنی طرف سے دلیل دینے والا ہے، اور اللہ عزوجل ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۔ اور وہ عراق اور شام کے درمیان ایک درے سے نکلے گا، دائیں بھی فساد پھیلائے گا اور بائیں بھی فساد پھیلائے گا۔ اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہو، کیونکہ وہ شروع میں کہے گا: میں نبی ہوں، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان 'کافر' لکھا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا، تو تم میں سے جو اس سے ملے وہ اس کے چہرے پر تھوک دے، اور سورۃ اصحابِ کہف کی فیصلہ کن آیات پڑھے۔ اور اسے بنی آدم میں سے ایک شخص پر تسلط دیا جائے گا، وہ اسے قتل کرے گا پھر اسے زندہ کر دے گا، اور یہ اسی حد تک ہو گا، اس کے سوا کسی اور پر اسے تسلط نہیں دیا جائے گا۔ اور اس کے فتنے میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی، حالانکہ اس کی جہنم دراصل جنت ہے اور اس کی جنت دراصل جہنم ہے، تو جو اس کی جہنم میں مبتلا ہو جائے وہ اپنی آنکھیں بند کر لے اور اللہ سے فریاد کرے، تو وہ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی، جیسے آگ ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی تھی۔ اور اس کے دن چالیس دن ہوں گے: ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر، اور باقی دن تمہارے عام دنوں جیسے ہوں گے، اور اس کے آخری دن سراب کی طرح ہوں گے، آدمی شہر کے ایک دروازے پر صبح کرے گا اور دوسرے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی (دن ختم ہو جائے گا)۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ہم ان مختصر دنوں میں نماز کیسے پڑھیں؟ فرمایا: ”تم ان میں بھی اسی طرح اندازہ کرو گے جیسے لمبے دنوں میں اندازہ کرتے ہو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ، ثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ثنا ضَمْرَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔