کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا شرحبیل ابن حسنہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ، فَخَطَبَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ، فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ، فَقَالَ: كَذَبَ عَمْرٌو , صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ، «وَلَكِنَّهُ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ، وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَوَفَاةُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ»
ترجمہ
… تو لوگ اس وبا سے وادیوں اور گھاٹیوں میں بھاگ گئے، تو یہ بات شرحبیل ابن حسنہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے کہا: عمرو نے جھوٹ کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی ہے، اور عمرو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ گمراہ بات کہنے والا ہے، بلکہ یہ وبا تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا، اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت کا سبب ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7178
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 305، حدیث 7209
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ شُفْعَةَ، قَالَ: وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ، فَقَامَ عَمْرٌو، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرِّجْسَ قَدْ وَقَعَ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ، قَالَ ابْنُ حَسَنَةَ: قَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ، «إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ , وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ , وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، فَاجْتَمِعُوا لَهُ، وَلَا تَفَرَّقُوا عَنْهُ» ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرًا، فَقَالَ: صَدَقَ
ترجمہ
عمرو رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یہ نجاست (وبا) نازل ہو چکی ہے، تو تم اس سے دور دور بکھر جاؤ۔ تو ابن حسنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی ہے، اور یہ عمرو کی بات اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ گمراہ کن ہے، یہ تو صرف تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا، اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت ہے، پس اس کے لیے اکٹھے ہو جاؤ، اور اس سے بکھرو مت۔ تو یہ بات عمرو رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7179
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 305، حدیث 7210
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقٍ الْمِصْرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُرَحْبِيلِ ابْنِ حَسَنَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَقْعُدْ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا شرحبیل ابن حسنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کی دو رکعتوں میں تشہد کے لیے بیٹھے بغیر کھڑے ہو گئے، اور نماز مکمل کرنے تک نہیں بیٹھے، پھر آخر میں دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7180
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 305، حدیث 7211