حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ، فَخَطَبَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ، فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ، فَقَالَ: كَذَبَ عَمْرٌو , صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ، «وَلَكِنَّهُ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ، وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَوَفَاةُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ»
ترجمہ
عبدالرحمن بن غنم رحمہ اللہ کہتے ہیں: شام میں طاعون پھیلا، تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: بے شک یہ طاعون گندگی ہے، اس سے وادیوں اور گھاٹیوں میں بھاگ جاؤ۔ تو یہ بات سیدنا شرحبیل ابن حسنہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے کہا: عمرو نے جھوٹ کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی ہے، اور عمرو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہے، بلکہ یہ تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا، اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ شُفْعَةَ، قَالَ: وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ، فَقَامَ عَمْرٌو، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرِّجْسَ قَدْ وَقَعَ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ، قَالَ ابْنُ حَسَنَةَ: قَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ، «إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ , وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ , وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، فَاجْتَمِعُوا لَهُ، وَلَا تَفَرَّقُوا عَنْهُ» ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرًا، فَقَالَ: صَدَقَ
ترجمہ
شرحبیل بن شفعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: شام میں طاعون پھیلا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یہ نجاست (وبا) نازل ہو چکی ہے، تو تم اس سے دور دور بکھر جاؤ۔ تو ابن حسنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی ہے، اور وہ (عمرو) اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہے، یہ تو صرف تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا، اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت ہے، پس اس کے لیے اکٹھے ہو جاؤ، اور اس سے بکھرو مت۔ تو یہ بات عمرو رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقٍ الْمِصْرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُرَحْبِيلِ ابْنِ حَسَنَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَقْعُدْ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا شرحبیل ابن حسنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کی دو رکعتوں (کے بعد تشہد کے لیے بیٹھے بغیر) کھڑے ہو گئے، اور نماز مکمل کرنے تک نہیں بیٹھے، پھر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔