کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سوید بن غفلہ، مخضرم (جاہلیت اور اسلام دونوں دور پائے)
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: سِرْتُ , أَوْ أَخْبَرَنِي مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَأْخُذْ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ، وَلَا تَجْمَعْ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا تُفَرِّقْ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ»
ترجمہ
سوید بن غفلہ (مخضرم) بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے زکات وصول کرنے والے (عامل) کے ساتھ چلا، یا مجھے کسی نے بتایا جو ان کے ساتھ چلا، تو رسول اللہ ﷺ کے عہد نامے میں یہ لکھا تھا: ”دودھ پیتے (بچے کے) جانور میں سے زکات نہ لی جائے، اور (زکات سے بچنے کے لیے) الگ الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے، اور نہ اکٹھے مال کو الگ الگ کیا جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بُكَيْرٍ الطَّيَالِسِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَأَخَذَ بِيَدِي، فَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ: «أَنْ لَا تَجْمَعْ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا تُفَرِّقْ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ» فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ أَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي؟ وَأَيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي؟ إِذَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ»
ترجمہ
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا زکات وصول کرنے والا (عامل) ہمارے پاس آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا، تو میں نے اس کے عہد نامے میں پڑھا: ”زکات (کم دینے) کے ڈر سے نہ الگ الگ مال کو اکٹھا کیا جائے، اور نہ اکٹھے مال کو الگ الگ کیا جائے۔“ پھر ایک آدمی اس کے پاس ایک بڑی اونٹنی لے کر آیا تو اس نے اسے لینے سے انکار کر دیا، پھر وہ اس سے کم تر ایک اور اونٹنی لے کر آیا تو اسے بھی لینے سے انکار کر دیا، پھر اس نے کہا: کون سی زمین مجھے اٹھائے گی اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا اگر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس حال میں جاؤں کہ میں نے کسی مسلمان کا بہترین مال لے لیا ہو؟