کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جو کچھ محمد بن منکدر نے سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ حَدَّثَهُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَكِبْتُ الْبَحْرَ، فَانْكَسَرَتْ سَفِينَتِي الَّتِي كُنْتُ فِيهَا، فَرَكِبْتُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِهَا، فَطَرَحَنِي اللَّوْحُ فِي أَجَمَةٍ فِيهَا الْأَسَدُ، فَأَقْبَلَ يُرِيدُنِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْحَارِثِ، أَنَا مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ، وَأَقْبَلَ إِلَيَّ، فَدَفَعَنِي بِمَنْكِبِهِ حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنَ الْأَجَمَةِ، وَوَضَعَنِي عَلَى الطَّرِيقِ، وَهَمْهَمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَدِّعُنِي، فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ عَهْدِي بِهِ "
ترجمہ
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، بیان کرتے ہیں: میں سمندر میں سوار ہوا، تو میری وہ کشتی جس میں، میں سوار تھا ٹوٹ گئی، میں اس کے ایک تختے پر سوار ہو گیا، تختہ مجھے ایک جھاڑی میں لے گیا جس میں شیر تھا، وہ میری طرف بڑھا تو میں نے کہا: اے ابوالحارث! میں رسول اللہ ﷺ کا آزاد کردہ غلام ہوں۔ اس نے اپنا سر جھکا لیا اور میری طرف بڑھا، اپنے کندھے سے مجھے دھکیل کر جھاڑی سے باہر نکال لایا اور مجھے راستے پر بٹھا دیا، پھر غراتے ہوئے آواز نکالی، تو میں سمجھا کہ وہ مجھے رخصت کر رہا ہے، اور وہ میری اس سے آخری ملاقات تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَفِينَةَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ
ترجمہ
اسی طرح سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت مروی ہے، البتہ اس سند میں محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان کا ذکر نہیں ہے۔