کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے واقعات
❮
❯
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ بَنِي شَبَابَةَ، بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَحْلٍ - كَانَ لَهُمُ - الْعُشْرَ، مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ، وَكَانَ يَحْمِي وَادِيَيْنِ لَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ عَلَى مَا هُنَاكَ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيَّ، فَأَبَوْا أَنْ يُؤَدُّوا إِلَيْهِ شَيْئًا، وَقَالُوا: إِنَّمَا كُنَّا نُؤَدِّيهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ سُفْيَانُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «إِنَّمَا النَّحْلُ ذُبَابُ غَيْثٍ يَسُوقُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رِزْقًا إِلَى مَنْ يَشَاءُ، فَإِنْ أَدُّوا إِلَيْكَ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْمِ لَهُمْ أَوْدِيَتَهُمْ، وَإِلَّا فَخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَدَّوْا إِلَيْهِ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمَى لَهُمْ أَوْدِيَتَهُمْ»
ترجمہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ فہم کی ایک شاخ بنو شبابہ اپنی شہد کی مکھیوں کا عشر، یعنی ہر دس مشکوں میں سے ایک مشک، رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے، اور آپ ﷺ ان کی دو وادیوں کو (ان کے لیے) محفوظ رکھتے تھے، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے وہاں سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کیا، تو انہوں نے انہیں کچھ بھی ادا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: ہم تو یہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے۔ تو سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ نے یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: ”شہد کی مکھی تو بارش کی مکھی ہے جسے اللہ عزوجل رزق بنا کر جس کی طرف چاہتا ہے ہانک دیتا ہے، پس اگر وہ تمہیں وہی ادا کریں جو وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے تو ان کی وادیوں کو ان کے لیے محفوظ قرار دے دو، ورنہ اسے لوگوں کے لیے کھلا چھوڑ دو۔“ چنانچہ انہوں نے وہی ادا کیا جو وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے، تو انہوں نے ان کی وادیاں محفوظ قرار دے دیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6363
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 67، حدیث 6393
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ بَطْنًا مِنْ فَهْمٍ كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْلٍ لَهُمْ , مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةً، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ عَلَى هُنَاكَ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيَّ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ فہم کی ایک شاخ اپنی شہد کی مکھیوں کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو ہر دس مشکوں میں سے ایک مشک ادا کیا کرتی تھی، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے وہاں سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کیا، پھر راوی نے اسامہ بن زید (لیثی) کی (سابقہ) روایت جیسی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6364
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 67، حدیث 6394
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ جَدِّهِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَعَثَهُ مُصَدِّقًا فَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ، فَقَالُوا: تَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ، وَلَا تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا؟ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «نَعَمْ، تَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي، وَلَا تَأْخُذْهَا , وَلَا تَأْخُذِ الْأَكُولَةَ وَلَا الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَتَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ، وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ»
ترجمہ
سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں زکاۃ وصول کرنے والا بنا کر بھیجا، تو وہ لوگوں پر (زکاۃ کے حساب میں) بکریوں کے بچے بھی شمار کرتے تھے، تو لوگوں نے کہا: آپ ہم پر بچوں کو شمار کرتے ہیں مگر ان میں سے کچھ نہیں لیتے؟ پھر جب وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں یہ بات بتائی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”ہاں، ان کے بچے کو شمار کرو جسے چرواہا اٹھائے پھرتا ہے، مگر اسے مت لو، اور نہ موٹی تازی بکری لو، نہ دودھ والی جو ابھی بچے کے ساتھ ہے، نہ حاملہ، اور نہ بکریوں کا نر، بلکہ ایک سالہ اور دو سالہ بکری لو، یہ مال کی معمولی اور عمدہ بکریوں کے درمیان انصاف ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6365
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 68، حدیث 6395