المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من أخبار سفيان بن عبد الله باب: سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے واقعات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ جَدِّهِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَعَثَهُ مُصَدِّقًا فَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ، فَقَالُوا: تَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ، وَلَا تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا؟ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «نَعَمْ، تَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي، وَلَا تَأْخُذْهَا , وَلَا تَأْخُذِ الْأَكُولَةَ وَلَا الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَتَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ، وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ»سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں زکاۃ وصول کرنے والا بنا کر بھیجا، تو وہ لوگوں پر (زکاۃ کے حساب میں) بکریوں کے بچے بھی شمار کرتے تھے، تو لوگوں نے کہا: آپ ہم پر بچوں کو شمار کرتے ہیں مگر ان میں سے کچھ نہیں لیتے؟ پھر جب وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں یہ بات بتائی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”ہاں، ان کے بچے کو شمار کرو جسے چرواہا اٹھائے پھرتا ہے، مگر اسے مت لو، اور نہ موٹی تازی بکری لو، نہ دودھ والی جو ابھی بچے کے ساتھ ہے، نہ حاملہ، اور نہ بکریوں کا نر، بلکہ ایک سالہ اور دو سالہ بکری لو، یہ مال کی معمولی اور عمدہ بکریوں کے درمیان انصاف ہے۔“