کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: علی بن یزید بن حکیمہ اسلمی کی ایاس بن سلمہ سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ بْنِ حُكَيْمَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَرْدَفَنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِي، وَاسْتَغْفَرَ لِي وَلِذُرِّيَّتِي عَدَدَ مَا بِيَدِي مِنَ الْأَصَابِعِ»
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے کئی بار اپنے پیچھے سوار کیا، اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور میرے اور میری اولاد کے لیے اتنی بار مغفرت کی دعا کی جتنی میرے ہاتھ کی انگلیاں ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6240
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 24، حدیث 6267
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ بْنِ حُكَيْمَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «انْتُهِبَتْ لِقَاحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أُرَامِيهِمْ حَتَّى جَاءَنِيَ الْخَيْلُ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی دودھ دینے والی اونٹنیاں لوٹ لی گئیں، تو میں انہیں تیر مارتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سوار میرے پاس آ پہنچے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6241
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 25، حدیث 6268
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ بْنِ حُكَيْمَةَ الْأَسْلَمِيُّ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ: «انْزِلْ يَا عَامِرُ فَأَسْمِعْنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ» ، فَنَزَلَ، وَهُوَ يَرْتَجِزُ:
[البحر الرجز]
وَاللهِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا
فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْحَمُكَ اللهُ رَبُّكَ» ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، هَلَّا مَتَّعْتَنَا مِنَ ابْنِ الْأَكْوَعِ، فَصَبَّحْنَا خَيْبَرَ الْغَدَ، فَكَانَ مِنْ خَبَرِ عَامِرٍ أَنْ حَالَ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ: قَتَلَ عَامِرٌ نَفْسَهُ، فَذَهَبَ سَلَمَةُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ مِنْ مَنِيَّةِ عَامِرٍ أَنْ حَالَ عَلَيْهِ سَيْفُهُ، فَقَتَلَهُ، فَزَعَمَ النَّاسُ أَنَّهُ قَتَلَ نَفْسَهُ؟ فَقَالَ: «كَذَبُوا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فِي الْجَنَّةِ يَعُومُ عَوَمَانِ الدُّعْمُوصِ»
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عامر! اترو اور ہمیں اپنے کچھ اشعار سناؤ۔“ تو وہ اترے اور رجز پڑھنے لگے: ”اللہ کی قسم، اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے، پس ہم پر سکینت نازل فرما، اور ہمارے قدم جما دے اگر مقابلہ ہو، بے شک ان لوگوں نے ہم پر زیادتی کی ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تیرا رب تجھ پر رحم فرمائے۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا نبی اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں، کاش آپ ہمیں ابنِ اکوع سے زیادہ دیر فائدہ پہنچاتے۔ پھر جب اگلی صبح ہم خیبر پہنچے تو عامر کا واقعہ یہ ہوا کہ ان کی اپنی تلوار پلٹ کر انہیں لگی اور وہ اس سے شہید ہو گئے، تو لوگوں نے کہا: عامر نے خود کو قتل کر لیا۔ چنانچہ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا: عامر کی موت یہ ہوئی کہ ان کی اپنی تلوار پلٹ کر انہیں لگی اور اس سے وہ شہید ہو گئے، تو لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے خود کو قتل کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے جھوٹ کہا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، گویا میں انہیں جنت میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس طرح تیر رہے ہیں جیسے چھوٹی مچھلی تیرتی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6242
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 25، حدیث 6269