کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوصخر حمید بن زیاد کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ الْجَنَّةَ فَقَالَ: «فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اس میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5979
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 201، حدیث 6002
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَصِفُ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: «فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ خَطَرَ» ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} [السجدة: ١٦] إِلَى قَوْلِهِ: {جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: ١٧]
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور آپ جنت کی صفت بیان فرما رہے تھے، یہاں تک کہ اس مقام تک پہنچے اور فرمایا: ”اس میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”ان کے پہلو (رات کو) بستروں سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں“ [سورۃ السجدہ: 16]، اس آیت تک: ”یہ بدلہ ہے اس کا جو وہ کرتے تھے“ [سورۃ السجدہ: 17]۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5980
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 201، حدیث 6003