حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ وَهَبَتُ نَفْسِي لَكَ، فَصَمَتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: «أَلَكَ شَيْءٌ؟» ، قَالَ: لَا وَاللهِ، قَالَ: «فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے۔ آپ ﷺ خاموش رہے۔ اس پر انصار میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔“
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي الرَّوْحِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلدی افطار کریں۔“