کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ، بدری صحابی، بئرِ معونہ کے دن شہید ہوئے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ مَبْذُولٍ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَامِرٍ "
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں سے، پھر بنو عامر بن مالک بن نجار میں سے، پھر بنو عامر بن مبذول میں سے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں: حارث بن صمہ بن عبید بن عامر (شریک تھے)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَبْذُولٍ، كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ "
ترجمہ
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں سے، بنو عامر بن مالک میں سے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں: حارث بن صمہ بن عمرو بن عبید بن عمرو بن مبذول — وہ روحاء کے مقام پر ہڈی تڑوا بیٹھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بھی غنیمت میں سے ان کا حصہ لگا دیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مَبْذُولٍ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَتِيكٍ، كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ "
ترجمہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں سے، بنو عامر بن مالک بن نجار میں سے، پھر بنو مبذول میں سے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں: حارث بن صمہ بن عمرو بن عتیک — وہ روحاء کے مقام پر ہڈی تڑوا بیٹھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے غنیمت میں سے ان کا حصہ لگا دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ "
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ بئر معونہ کے دن شہید ہونے والے مسلمانوں کے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں: حارث بن صمہ (شہید ہوئے)۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ " فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ "
ترجمہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بئر معونہ کے دن شہید ہونے والے مسلمانوں کے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں: حارث بن صمہ (شہید ہوئے)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ: قَالَ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ: سَأَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ فِي الشِّعْبِ: «هَلْ رَأَيْتَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ؟» قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُهُ إِلَى حَرِّ الْجَبَلِ، وَعَلَيْهِ عَكَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَهَرَبْتُ إِلَيْهِ لِأَمْنَعَهُ، فَرَأَيْتُكَ فَعَدَلْتُ إِلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ» . قَالَ الْحَارِثُ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَجِدُهُ بَيْنَ نَفَرٍ سَبْعَةٍ صَرْعَى، فَقُلْتُ لَهُ: ظَفِرَتْ يَمِينُكَ، أَكُلَّ هَؤُلَاءِ قَتَلْتَ؟ قَالَ: أَمَّا هَذَا لِأَرْطاةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، وَهَذَا فَأَنَا قَتَلْتُهُمَا، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَتَلَهُمْ مَنْ لَمْ أَرَهُ. قُلْتُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ
ترجمہ
محمود بن لبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن، جبکہ آپ ﷺ گھاٹی میں تھے، مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! میں نے انہیں پہاڑ کی طرف دیکھا، اور مشرکین کی ایک بھیڑ ان پر چڑھی ہوئی تھی، تو میں ان کی مدد کے لیے ان کی طرف بھاگا، لیکن پھر آپ ﷺ کو دیکھ کر آپ ﷺ کی طرف مڑ آیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سن لو! فرشتے اس کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔“ حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی طرف واپس گیا تو انہیں سات آدمیوں کے درمیان پایا جو مرے پڑے تھے، تو میں نے ان سے کہا: تمہارا دایاں ہاتھ کامیاب رہا، کیا یہ سب تم نے قتل کیے؟ انہوں نے کہا: یہ ارطاۃ بن شرحبیل کا ہے اور یہ دوسرا، ان دونوں کو میں نے قتل کیا ہے، رہے یہ باقی تو انہیں اس نے قتل کیا جسے میں نے دیکھا ہی نہیں۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔