حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: " يُعَدِّدُونَ الْمَيِّتَ أَوْ قَالَ: أَهْلَ الْمَيِّتِ بَعْدَمَا يُدْفَنُ؟ " - شَكَّ إِسْمَاعِيلُ - قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «كُنَّا نَعُدُّهَا النِّيَاحَةَ»
ترجمہ
قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا لوگ میت کو، یا فرمایا: میت کے گھر والوں کو، دفن کے بعد شمار کرتے ہیں؟“ - اسماعیل کو شک تھا - میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”ہم اسے نوحہ شمار کیا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: «كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ اجْتِمَاعَ أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنْعَةَ الطَّعَامِ مِنَ النِّيَاحَةِ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور (ان کے لیے) کھانا تیار کرنے کو نوحہ میں شمار کیا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: «النَّظْرَةُ الْأُولَى لَا يَمْلِكُهَا الرَّجُلُ، وَلَكِنَّ الَّذِي يُدْمِنُ النَّظَرَ دَسًّا»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہا جاتا تھا: ”پہلی نظر پر آدمی کا اختیار نہیں ہوتا، لیکن جو مسلسل دیکھتا رہے وہ دانستہ (گناہ) کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ} [هود: ١١٧] ، قَالَ: «وَأَهْلُهَا يُنْصِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اور آپ کا رب بستیوں کو ظلم کے ساتھ ہلاک کرنے والا نہیں جبکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں“ [سورۃ ہود: 117]، تو فرمایا: ”یعنی ان کے باشندے ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کرنے والے ہوں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالُوا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ثنا بُهْلُولُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ جَرِيرًا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: «كُنَّا نَمْسَحُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قُلْنَا: أَقَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ أَوْ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، قَالَ: إِنَّمَا أَسْلَمْتُ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ
ترجمہ
قیس بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسح کیا کرتے تھے۔“ ہم نے پوچھا: سورۃ مائدہ کے نزول سے پہلے یا اس کے بعد؟ فرمایا: میں تو سورۃ مائدہ کے نزول کے بعد ہی مسلمان ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْقَطَّانُ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: ١٣٠] ، قَالَ: «طُلُوعُ الشَّمْسِ صَلَاةُ الصُّبْحِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا صَلَاةُ الْعَصْرِ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ”اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے“ [سورۃ طٰہٰ: 130] کے بارے میں فرمایا: ”سورج طلوع ہونے سے پہلے (کی نماز) فجر کی نماز ہے، اور اس کے غروب ہونے سے پہلے (کی نماز) عصر کی نماز ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَزِيرُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مہاجرین اور انصار دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور قریش کے طلقاء (فتح مکہ کے دن آزاد کیے گئے لوگ) اور ثقیف کے عتقاء (آزاد کردہ لوگ) بھی دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ أُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور کسی حرام خون میں ملوث نہ ہوا ہو، وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوگا۔“