کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، قَالَا: ثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ، فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ، فَهَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا نَحْنُ نَحَرْنَا ظَهْرَنَا، ثُمَّ لَقِينَا عَدُوَّنَا غَدًا وَنَحْنُ جِيَاعٌ رِجَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا تَرَى يَا عُمَرُ؟» قَالَ: تَدْعُو النَّاسَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ، ثُمَّ تَدْعُو لَنَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ إِنْ شَاءَ اللهُ، قَالَ: فَكَأَنَّمَا كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِطَاءٌ، فَكُشِفَ فَدَعَا بِثَوْبٍ، فَأَمَرَ بِهِ، فَبُسِطَ، ثُمَّ دَعَا النَّاسَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ، فَجَاءُوا بِمَا كَانَ عِنْدَهُمْ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ جَاءَ بِالْجَفْنَةِ مِنَ الطَّعَامِ - أَوِ الْحِفْنَةِ - وَمِنْهُمْ مَنْ جَاءَ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ عَلَى ذَلِكَ الثَّوْبِ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ، وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَتَكَلَّمَ، ثُمَّ نَادَى فِي الْجَيْشِ، فَجَاءُوا، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَأَكَلُوا، وَطَعِمُوا، وَمَلَأُوا أَوْعِيَتَهُمْ، وَمَزَاوِدَهُمْ، ثُمَّ دَعَا بِرَكْوَةٍ فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَصَبَّهُ فِيهَا، ثُمَّ مَجَّ فِيهَا، فَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَتَكَلَّمَ، ثُمَّ أَدْخَلَ خِنْصَرَهُ فِيهَا، فَأَقْسَمَ بِاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ أَصَابِعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَجَّرُ يَنَابِيعَ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَشَرِبُوا، وَسَقَوْا، وَمَلَأُوا قِرَبَهُمْ، وَأَدَاوِيَهُمْ، ثُمَّ ضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ»
ترجمہ
…سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا خیال ہے اگر ہم اپنی سواریاں ذبح کر لیں، پھر کل ہم بھوکے حال میں دشمن سے ملیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری کیا رائے ہے، عمر؟“ انہوں نے کہا: لوگوں کو ان کے بچے ہوئے زادِ راہ (کھانے پینے کی چیزوں) کے ساتھ بلائیے، پھر ان کے لیے اس میں برکت کی دعا کیجیے، اللہ عزوجل آپ کی دعا کی بدولت انشاءاللہ ہمیں پہنچا دے گا۔ راوی کہتے ہیں: گویا رسول اللہ ﷺ پر کوئی پردہ تھا جو ہٹا دیا گیا، آپ ﷺ نے ایک کپڑا منگوایا اور اسے بچھانے کا حکم دیا، پھر لوگوں کو ان کے بچے ہوئے زادِ راہ کے ساتھ بلایا، وہ جو کچھ ان کے پاس تھا لے آئے، کوئی کھانے کا پیالہ لایا - یا مٹھی بھر - اور کوئی انڈے کے برابر مقدار لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو وہ اس کپڑے پر رکھا گیا، پھر آپ ﷺ نے اس میں برکت کی دعا کی اور جو اللہ نے چاہا کہا، پھر لشکر میں پکارا، وہ آئے، پھر آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے کھایا اور سیر ہوئے اور اپنے برتن اور تھیلے بھر لیے۔ پھر آپ ﷺ نے ایک برتن منگوایا جو آپ ﷺ کے سامنے رکھا گیا، پھر پانی منگوایا اور اسے اس میں ڈالا، پھر اس میں کلی کی اور جو اللہ نے چاہا کہا، پھر اپنی چھنگلیا اس میں ڈالی۔ راوی کہتے ہیں: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹتے دیکھے، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے پیا اور (اپنے جانوروں کو) پلایا اور اپنی مشکیں اور برتن بھر لیے۔ پھر رسول اللہ ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، پھر فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے، قیامت کے دن جو بھی ان دونوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا وہ اسی حال پر جنت میں داخل ہوگا۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بَيْهَسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، لَا أَعْلَمُ ذَلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ وَلَمْ يَرَكَ، وَصَدَّقَكَ وَلَمْ يَرَكَ، مَاذَا لَهُمْ؟ قَالَ: «طُوبَى لَهُمْ مَرَّتَيْنِ، أُولَئِكَ مِنَّا، أُولَئِكَ مَعَنَا»
ترجمہ
…میں اس بات کو رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی اور سے نہیں جانتا کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کیا خیال ہے اس شخص کا جو آپ پر ایمان لایا لیکن آپ کو نہیں دیکھا، اور آپ کی تصدیق کی لیکن آپ کو نہیں دیکھا، ان کے لیے کیا (اجر) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے خوشخبری ہے، دو بار (فرمایا)، وہ ہم میں سے ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہیں۔“