حدیث نمبر: 9930
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ قَالَ: «لِيَقُمْ مَعِي رَجُلٌ مِنْكُمْ، وَلَا يَقُومَنَّ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْغِشِّ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ» ، فَقُمْتُ مَعَهُ وَأَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِأَعْلَى مَكَّةَ رَأَيْتُ أَسْوِدَةً مُجْتَمِعَةً، قَالَ: فَخَطَّ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ: «قُمْ هَاهُنَا حَتَّى آتِيَكَ» ، فَقُمْتُ، وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَرَأَيْتُهُمْ يَثُورُونَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَسَمَرَ رَسُولُ اللهِ لَيْلًا طَوِيلًا حَتَّى جَاءَنِي مَعَ الْفَجْرِ فَقَالَ: «مَا زِلْتَ قَائِمًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ بَعْدُ؟» فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ لَمْ تَقُلْ لِي قُمْ حَتَّى آتِيَكَ؟ ثُمَّ قَالَ لِي: «هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَفَتَحْتُ الْإِدَاوَةَ فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ أَخَذْتُ وَمَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً، فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ» ، ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْهَا، فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي جَاءَ شَخْصَانِ مِنْهُمْ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَؤُمَّنَا فِي صَلَاتِنَا، قَالَ: فَصَفَّهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «هَؤُلَاءِ جِنُّ نَصِيبِينَ، وَقَدْ سَأَلُونِي الزَّادَ، فَزَوَّدْتُهُمُ الرَّجْعَةَ، مَا وَجَدُوا مِنْ رَوْثٍ وَجَدُوهُ شَعِيرًا، وَمَا وَجَدُوا مِنْ عَظْمٍ وَجَدُوهُ كَاسِيًا» ، فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَطَابَ بِالرَّوْثِ وَبِالْعَظْمِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ تھے، اچانک آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ایک آدمی میرے ساتھ کھڑا ہو، اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی دھوکا ہو وہ میرے ساتھ ہرگز کھڑا نہ ہو۔“ میں آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور برتن لے لیا، میں سمجھتا تھا کہ اس میں پانی ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ جب مکہ کے بالائی حصے میں پہنچے تو میں نے کچھ سیاہ ہجوم دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے ایک خط کھینچا اور فرمایا: ”یہاں کھڑے رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آؤں۔“ میں کھڑا ہو گیا، اور رسول اللہ ﷺ ان کی طرف چلے گئے، میں نے دیکھا کہ وہ آپ ﷺ کی طرف امڈ پڑے۔ رسول اللہ ﷺ رات بھر ان سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ فجر کے وقت میرے پاس آئے اور فرمایا: ”اے ابن مسعود! اب تک کھڑے ہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ ﷺ نے مجھ سے نہیں فرمایا تھا کہ کھڑے رہو یہاں تک کہ میں آؤں؟ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارے پاس وضو کے لیے کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ میں نے برتن کھولا تو اس میں نبیذ نکلا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں نے اسے پانی ہی سمجھ کر لیا تھا، مگر یہ تو نبیذ نکلا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پاکیزہ کھجور، اور پاک کرنے والا پانی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا۔ جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ان میں سے دو اشخاص آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری نماز میں ہماری امامت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے پیچھے صف میں کھڑا کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کون تھے؟ فرمایا: ”یہ نصیبین کے جن تھے، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ مانگا تو میں نے انہیں یہ زادِ راہ دیا کہ جو ہڈی بھی انہیں ملے وہ اسے گوشت سے بھری ہوئی پائیں گے، اور جو گوبر انہیں ملے وہ اسے (اپنے جانوروں کے لیے) دانہ پائیں گے۔“ اسی پر رسول اللہ ﷺ نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9930
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 65، حدیث 9966