حدیث نمبر: 9927
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَإِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْدِيِّ، ثنا أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ، قَالَا: نَشْهَدُ الْفَجْرَ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: لَيْسَ مَعِي مَاءٌ، وَلَكِنْ مَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ» ، فَتَوَضَّأَ. قَالَ إِسْرَائِيلُ فِي حَدِيثِهِ: ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب شبِ جن ہوئی تو ان میں سے دو آدمی پیچھے رہ گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم آپ کے ساتھ فجر میں حاضر ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرے پاس پانی نہیں، البتہ میرے پاس ایک برتن ہے جس میں نبیذ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پاکیزہ کھجور، اور پاک کرنے والا پانی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے وضو کیا۔ اسرائیل اپنی روایت میں کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9927
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 64، حدیث 9963