حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: «أُفٍّ، أُفٍّ، أُفٍّ» وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي، فَرَاعَنِي فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: «صَاحِبُ هَذِهِ الْحُفْرَةِ اسْتَعْمَلْتُهُ عَلَى بَنِي فُلَانٍ، فَخَانَ بُرْدَةً، فَأُرِيتُهَا عَلَيْهِ تَلْتَهَبُ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بقیع سے گزرے تو فرمایا: ”اف، اف، اف۔“ اور آپ ﷺ کے ساتھ میرے سوا کوئی نہ تھا، تو مجھے تشویش ہوئی، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس گڑھے والے کو میں نے فلاں قبیلے پر عامل بنایا تھا، اس نے ایک چادر میں خیانت کی، تو مجھے وہ اس پر بھڑکتی ہوئی دکھائی گئی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 984
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 330، حدیث 988