المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 9766–9906) باب: (احادیث 9766 تا 9906)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ فِي صَلَاتِهِ أَوَ نَقَصَ - قَالَ مَنْصُورٌ: وَإِنَّمَا إِبْرَاهِيمُ النَّاسِي ذَاكَ عَنْ عَلْقَمَةَ، أَوَ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: «لَا» ، فَذُكِرَ لَهُ الَّذِي صَنَعَ، فَثَنَى رِجْلَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ نَبَّأْتُكُمْ، وَلَكِنِّي بَشَرٌ مِثْلَكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى بِذَلِكَ الصَّوَابُ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کی اور اپنا چہرہ ہماری طرف کیا تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نئی بات پیش آ گئی تھی؟ فرمایا: ”نہیں۔“ پھر آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ آپ ﷺ نے کیا کیا تھا (یعنی نماز میں کمی بیشی کی تھی)، تو آپ ﷺ نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر (سلام پھیر کر) فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نئی بات پیش آتی تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا، لیکن میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں، بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو، پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور تم میں سے جسے بھی اپنی نماز میں شک ہو جائے وہ سوچ بچار کرے کہ کون سی بات درست ہے، پھر اسی کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے، پھر سلام پھیرے اور دو سجدے کرے۔“