حدیث نمبر: 9788
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَكَانَ عِنْدَهُ غُلَامٌ، فَقَرَأَ الْمُصْحَفَ وَعِنْدَهُ أَصْحَابُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: خَضْرَمَةُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيُّ دَرَجَاتِ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الزَّكَاةُ، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: فَمَعَ مَنِ الْمَرْءُ؟ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مَعَ مَنْ أَحَبَّ
ترجمہ

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکا تھا، وہ اپنے ساتھیوں کے سامنے مصحف پڑھ رہے تھے کہ خضرمہ نامی ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابو عبدالرحمٰن! اسلام کے درجات میں سے کون سا درجہ سب سے افضل ہے؟ فرمایا: نماز۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: زکوٰۃ۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: والدین کے ساتھ نیک سلوک۔ اس نے پوچھا: تو آدمی کس کے ساتھ ہوگا (یعنی آخرت میں)؟ فرمایا: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: جس سے وہ محبت رکھتا ہو اسی کے ساتھ۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9788
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 25، حدیث 9824