حدیث نمبر: 9686
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَإِسْرَائِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ رَجُلٍ جَارِيَةً بِسِتِّ مِائَةٍ - أَوْ تِسْعِ مِائَةٍ - فَنَشَدَهُ سَنَةً لَا يَجِدُهُ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا إِلَى السُّدَّةِ فَتَصَدَّقَ بِهَا مِنْ دِرْهَمٍ وَدِرْهَمَيْنِ عَنْ رَبِّهَا، «فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا خَيَّرَهُ، فَإِنِ اخْتَارَ الْأَجْرَ كَانَ لَهُ، وَإِنِ اخْتَارَ مَالَهُ كَانَ لَهُ مَالُهُ» ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «هَكَذَا فَافْعَلُوا بِاللُّقَطَةِ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ
ترجمہ

…سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے چھ سو - یا نو سو - (درہم) میں ایک باندی خریدی، پھر اس بیچنے والے کو ایک سال تک تلاش کیا مگر نہ پایا۔ پھر وہ اسے لے کر بازار کے دروازے پر گئے اور اس کے مالک کی طرف سے ایک ایک، دو دو درہم کر کے اسے صدقہ کر دیا۔ ”پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اختیار دیا جائے، اگر وہ اجر کو چن لے تو اسے وہی ملے گا، اور اگر اپنا مال چاہے تو اسے اس کا مال ملے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لقطہ (گری پڑی چیز) کے ساتھ اسی طرح کرو۔“ (یہ الفاظ عبدالرزاق کی روایت کے ہیں)

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9686
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 346، حدیث 9721