المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمى أم بني رافع، عن أبي رافع باب: سلمیٰ ام بنی رافع کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایات
وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَلْمَى أُمِّ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ بِالْبَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أذِنَّا، فَقَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ " فَوَجَدُوا جَرْوًا فِي بَعْضِ بُيُوتِهُمْ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَأَمَرَنِي حِينَ أَصْبَحْتُ فَلَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ، فَإِذَا بِامْرَأَةٍ قَاصِيَةٍ لَهَا كَلْبٌ يَنْبَحُ عَلَيْهَا، فَرَحِمْتُهَا فَتَرَكْتُهُ وَجِئْتُ، فَأَمَرَنِي، فَرَجَعْتُ إِلَى الْكَلْبِ فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ} [المائدة: ٤]سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگنے آئے، آپ ﷺ نے اجازت دے دی، مگر وہ دیر تک نہ آئے، رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر اٹھائی اور ان کی طرف بڑھے جبکہ وہ دروازے پر کھڑے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم نے اجازت دے دی تھی۔ انہوں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ، لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ تو ان کے کسی گھر میں ایک کتے کا بچہ پایا گیا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے مجھے صبح ہوتے ہی حکم دیا، اور میں نے مدینہ میں کوئی کتا نہ چھوڑا مگر اسے مار ڈالا، پھر ایک دور رہنے والی عورت کا ایک کتا تھا جو اس کی حفاظت کے لیے بھونکتا تھا، مجھے اس پر ترس آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا اور واپس آیا، تو آپ ﷺ نے مجھے پھر حکم دیا، چنانچہ میں کتے کے پاس واپس گیا اور اسے بھی مار ڈالا۔ پھر لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس مخلوق میں سے جن کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے، ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے؟ فرما دیجیے: تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں“ [سورۃ المائدہ: 4]۔