حدیث نمبر: 9659
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ بِرَجُلٍ وُجِدَ مَعَ امْرَأَةٍ فِي لِحَافٍ «فَضَرَبَهُمَا كُلَّ وَاحِدٍ أَرْبَعِينَ سَوْطًا، وَأَقَامَهُمَا لِلنَّاسِ» فَذَهَبَ أَهْلُ الْمَرْأَةِ، وَأَهْلُ الرَّجُلِ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ مَسْعُودٍ: مَا يَقُولُ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ، قَالَ: أَوَرَأَيْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالُوا: أَتَيْنَاهُ نَسْتَأْدِيهِ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُهُ "
ترجمہ

عبدالرحمن (قاسم کے والد) بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو ایک عورت کے ساتھ ایک ہی لحاف میں پایا گیا تھا، تو انہوں نے ہر ایک کو چالیس چالیس کوڑے مارے اور دونوں کو لوگوں کے سامنے کھڑا کیا۔ عورت کے گھر والے اور مرد کے گھر والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے شکایت کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ کیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم نے خود دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ لوگ کہنے لگے: ہم تو ان سے اپنا حق دلوانے آئے تھے، اور یہاں وہ (عمر) خود انہی سے پوچھ رہے ہیں (اور اسی پر مطمئن ہو گئے)۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9659
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 341، حدیث 9694