المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسن بن علي بن أبي رافع، عن جده باب: حسن بن علی بن ابی رافع کی اپنے دادا سے روایات
حدیث نمبر: 961
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ صَاحِبُ الذِّرَاعِ، قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَلِلشَّاةِ غَيْرُ ذِرَاعَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ نَاوَلْتَنِي مَا زِلْتَ تُنَاوِلُنِي»ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہی دستی حصہ پکڑے ہوئے تھے، فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے دے دیا، پھر فرمایا: ”مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے دے دیا، پھر فرمایا: ”مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا بکری کے دو سے زیادہ دستی حصے ہوتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مجھے دیتے رہتے تو تم برابر دیتے ہی رہتے۔“