حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ صَالِحِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يَدْعُو بِالْبَقِيعِ وَمَعَهُ أَبُو رَافِعٍ، فَدَعَا بِمَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُقْبِلًا، فَمَرَّ عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ: «أُفٍّ، أُفٍّ، أُفٍّ» فَقَالَ لَهُ أَبُو رَافِعٍ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا مَعَكَ أَحَدٌ غَيْرِي فَمِنِّي أَفَّفْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، وَلَكِنِّي أَفَّفْتُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ الَّذِي سُئِلَ عَنِّي فَشَكَّ فِيَّ»
ترجمہ

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کے پچھلے پہر بقیع میں دعا کرنے کے لیے نکلے، اور سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے جتنی اللہ نے چاہی دعا کی، پھر واپسی کے لیے مڑے، ایک قبر کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اف، اف، اف۔“ ابورافع رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کے ساتھ میرے سوا کوئی نہیں، کیا یہ میری طرف سے تھا کہ آپ نے 'اف' کہا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں نے یہ اس قبر والے کی وجہ سے کہا جس سے میرے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے میرے بارے میں شک کیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 957
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 322، حدیث 961