المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الفضل بن عبيد الله بن أبي رافع باب: فضل بن عبیداللہ بن ابی رافع کی روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْبُوذٌ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ رُبَّمَا ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهُمْ، وَرُبَّمَا يَتَحَدَّثُ إِلَى صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَهُوَ يُسْرِعُ، فَمَرَرْنَا بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: «أُفٍّ، أُفٍّ لَكَ» فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي، فَقَالَ لِي: «امْشِ، مَا لَكَ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحْدَثْتُ شَيْئًا؟ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» فَقُلْتُ: أَفَّفْتَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: «لَا، وَلَكِنْ هَذَا قَبْرُ فُلَانٍ، َبَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانٍ فَغَلَّ دِرْعًا فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلَهَا مِنَ النَّارِ»راوی بیان کرتے ہیں: … اور کبھی آپ ﷺ مغرب کی نماز تک باتیں کرتے رہتے، ایک بار میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز کے لیے جا رہا تھا اور آپ ﷺ تیز چل رہے تھے، ہم بقیع سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اف، اف تجھ پر۔“ مجھے خیال ہوا کہ یہ میری طرف ہے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”چلو، تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کیا؟“ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے مجھ پر 'اف' کہا یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ فلاں شخص کی قبر ہے جسے میں نے بنو فلاں پر عامل بنا کر بھیجا تھا، اس نے ایک زرہ میں خیانت کی، تو اب اسے اسی جیسی زرہ آگ کی پہنائی گئی ہے۔“