حدیث نمبر: 9481
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ كُرْدُوسٍ، قَالَ: أَرْسَلَ الْوَلِيدُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَأَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا عِيدُ الْمُسْلِمِينَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ فَقَالُوا: سَلْ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «يَقُومُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْكَعُ فَتِلْكَ خَمْسٌ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا يَرْكَعُ فِي آخِرِهِنَّ فَتِلْكَ تِسْعٌ فِي الْعِيدَيْنِ» ، فَمَا أَنْكَرَهُ وَاحِدٌ مِنْهُمْ
ترجمہ

…(راوی) سیدنا حذیفہ، سیدنا ابومسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے پاس عشاء کے بعد آیا اور کہا: کل مسلمانوں کی عید ہے، نماز کیسے پڑھی جائے؟ انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے پوچھو۔ اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”آدمی کھڑا ہو کر چار تکبیریں کہے، پھر سورۃ فاتحہ اور مفصل میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے، یہ پانچ (تکبیریں) ہو گئیں۔ پھر (دوسری رکعت میں) کھڑا ہو کر سورۃ فاتحہ اور مفصل میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر چار تکبیریں کہے اور آخری تکبیر کے ساتھ رکوع کرے، یہ دونوں عیدوں میں نو (تکبیریں) ہو گئیں۔“ تو ان میں سے کسی نے بھی اس پر نکیر نہ کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9481
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 302، حدیث 9514