حدیث نمبر: 9471
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي نِمْتُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: تَوَضَّأْ أَحْسَنَ مَا كُنْتَ مُتَوَضِّئًا، وَصَلِّ أَحْسَنَ مَا كُنْتَ مُصَلِّيًا، قَالَ: فَرَأَى أَنَّ عَبْدَ اللهِ لَمْ يَفْهَمْ مِنْ كُبْرِ مَا أَتَى، قَالَ: فَعَادَ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي نِمْتُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «تَوَضَّأْ أَحْسَنَ مَا كُنْتَ مُتَوَضِّئًا، وَصَلِّ أَحْسَنَ مَا كُنْتَ مُصَلِّيًا» ، فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا خَفَّ مَنْ عِنْدَهُ قَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي نِمْتُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: فَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ بِأُصْبُعِهِ فَعَصَرَهَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا قِيلَ لَكَ لِتَعْقِلَ تَوَضَّأْ أَحْسَنَ مَا كُنْتَ مُتَوَضِّئًا وَصَلِّ أَحْسَنَ مَا كُنْتَ مُصَلِّيًا»
ترجمہ

…اس (راوی) نے دیکھا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس (شخص کے گناہ) کی سنگینی کا احساس نہیں ہوا، تو وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! میں نماز فجر کے وقت سویا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”بہترین طریقے سے وضو کرو جیسے تم کبھی وضو کرتے ہو، اور بہترین طریقے سے نماز پڑھو جیسے تم کبھی پڑھتے ہو۔“ وہ خاموش ہو گیا یہاں تک کہ جب آپ کے پاس بیٹھے لوگ کم ہو گئے تو اس نے پھر کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں نماز فجر کے وقت سویا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کی انگلی پکڑ کر دبائی، پھر فرمایا: ”تم سے یہ اس لیے کہا گیا تھا کہ تم سمجھ جاؤ: بہترین طریقے سے وضو کرو جیسے تم کبھی وضو کرتے ہو، اور بہترین طریقے سے نماز پڑھو جیسے تم کبھی پڑھتے ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9471
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 300، حدیث 9504