حدیث نمبر: 9467
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخَّرَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ الصَّلَاةَ، فَأَمَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ الْمُؤَذِّنَ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ: مَا صَنَعْتَ؟ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَدَثٌ أَمِ ابْتَدَعْتَ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، وَلَمْ يَأْمُرِ اللهُ عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نَنْتَظِرَكَ بِصَلَاتِنَا، وَأَنْتَ فِي حَاجَتِكَ»
ترجمہ

…(سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کے دیر کرنے پر) مؤذن کو حکم دیا تو اس نے دوبارہ اذان دی، پھر خود آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس پر ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا: آپ نے یہ کیا کیا؟ کیا امیرالمؤمنین کی طرف سے کوئی نیا حکم آیا یا آپ نے (از خود) نئی بات نکالی؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا، اور نہ اللہ نے اور نہ اس کے رسول ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم اپنی نماز میں تمہارا انتظار کریں جبکہ تم اپنی ضرورت میں مصروف ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9467
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 299، حدیث 9500