حدیث نمبر: 9457
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: لَقِيَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَعْرَابِيٌّ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَضَحِكَ فَقَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ السَّلَامُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ، وَإِنَّ هَذَا عَرَفَنِي مِنْ بَيْنِكُمْ فَسَلَّمَ عَلَيَّ، وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا فَلَا يُسْجَدُ لِلَّهِ فِيهَا، وَحَتَّى يَبْعَثَ الْغُلَامُ الشَّيْخَ بَرِيدًا بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ، وَحَتَّى يَبْلُغَ التَّاجِرُ بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ فَلَا يَجِدُ رِبْحًا»
ترجمہ

…اس نے کہا: السلام علیک اے ابوعبدالرحمن! تو وہ ہنسے اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سلام صرف پہچان کی بنا پر ہونے لگے - اور اس شخص نے تم سب میں سے مجھے پہچانا تو مجھے سلام کیا - اور یہاں تک کہ مسجدیں گزرگاہیں بنا لی جائیں جن میں اللہ کے لیے سجدہ نہ کیا جائے، اور یہاں تک کہ نوجوان بوڑھے کو دونوں کناروں کے درمیان (لمبے سفر کا) قاصد بنا کر بھیجے، اور یہاں تک کہ تاجر دونوں کناروں کے درمیان (سفر کر کے) پہنچے مگر منافع نہ پائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9457
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 297، حدیث 9490