حدیث نمبر: 9307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ، وَلِلرَّجُلِ حَاجَةٌ فَلَا يَنْتَظِرْهُ إِذَا سَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِهِ، فَإِنَّ فَصْلَ الصَّلَاةِ التَّسْلِيمُ» ، فَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ يَقُومَ أَوْ يَتَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ، وَيَسْتَقْبِلُهُمْ بِوَجْهِهِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب امام سلام پھیرے اور آدمی کو کوئی ضرورت ہو تو وہ امام کے اپنی طرف چہرہ کرنے کا انتظار نہ کرے، کیونکہ نماز کو (لوگوں سے) جدا کرنے والی چیز سلام ہے۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جب سلام پھیرتے تو دیر نہ کرتے بلکہ کھڑے ہو جاتے یا اپنی جگہ سے ہٹ جاتے، اور لوگوں کی طرف اپنا چہرہ کر لیتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9307
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 268، حدیث 9339