المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 9300
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدٍ، قَالَ: مَرَّ عَبْدُ اللهِ عَلَى رَجُلٍ سَاجِدٍ قَدْ عَقَصَ رَأْسَهُ فَحَلَّ عَقِيصَتَهُ فَأَرْسَلَهَا، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى صَلَّى، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ» شَعْرَكَ يَسْجُدُ مَعَكَ فَلَا تَعْقِصْهُ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنْهُ أَجْرًا "، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي خِفْتُ أَنْ يَتَتَرَّبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنْ يَتَتَرَّبْ خَيْرٌ لَكَ»ترجمہ
زید بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک سجدہ کرتے ہوئے آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنے بال باندھے ہوئے تھے، تو انہوں نے اس کا جوڑا کھول کر بال چھوڑ دیے، پھر انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے نماز مکمل کی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے بال تمہارے ساتھ سجدہ کرتے ہیں، اس لیے انہیں مت باندھا کرو، کیونکہ تمہیں ہر بال کے بدلے ثواب ملتا ہے۔“ اس آدمی نے کہا: مجھے ڈر تھا کہ ان پر مٹی لگ جائے گی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ان پر مٹی لگ جائے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“